نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ طالب انصاری

تو بیاں اوصاف ہوں گے آپ کے تفصیل سے
ساتھ دینے کو کہوں گا میں اگر جبریل سے

اور تو زادِ رہِ شہرِ نبی کچھ بھی نہ تھا
میں نے بس موتی نکالے آنکھ کی زنبیل سے

اک شبِ خوش بخت میں دیدارِ پیغمبر ہوا
اور مکمل ہو گیا میں خواب کی تکمیل سے

اس جمالِ نور پرور کا بیاں ممکن نہیں
یہ بتایا جا نہیں سکتا کسی تمثیل سے

ہوں طوافِ گوشۂ غارِ حرا میں منہمک
خصلتِ پروانہ سیکھی ہے اسی قندیل سے

اور سارے کام سرعت سے کیا کرتا ہوں میں
حقِ مدحت تو ادا ہوتا نہیں تعجیل سے

ہر قدم پر کر رہا ہوں وردِ نامِ مصطفیٰ
اوج پر پہنچا ہوں میں اس زینۂ تفضیل سے

مجھ کو دہلیزِ نبی تک جانا ہے اب ننگے پاؤں
وہ نظر مینار آنے لگ گئے دو میل سے

کچھ نہیں طالب زرِ الفاظ و قرطاس و قلم
بیش قیمت ہوتا ہے یہ نعت کی تنزیل سے

Related posts

Leave a Comment